ابنا: نگران وزیراعلیٰ سندھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری افسران اور عملہ عوام کے خادم ہیں اور ان تمام لوگ عام لوگوں کو درپیش مسائل کے تدراک اور ان کی بہبود کے لئے کام کر نا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نگران حکومت کی ترجیحی ہوگی کہ صوبائی حکومت کے تمام امور میں گڈ گورننس اور تمام سطحوں پر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔ نگران وزیراعلیٰ سندھ نے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ مثبت اور پائیدار نتائج لائیں جس کے لئے تمام افسران اور ان کے ماتحت عملے کو دفاتر میں حاضری میں باقاعدگی اور اوقات کار کی پابندی لانا ہوگی۔
نگران وزیراعلیٰ سندھ نے تمام افسران اور ملازمین کو ہدایت کی کہ وہ صبح 9بجے تک لازمی طور پر دفتر پہنچیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بقایاکام اور کیسز کا فوری ڈسپوزل چاہتے ہیں جبکہ غیر ذمہ داری کے مرتکب ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائیگی ۔ انہوں نے افسران کو مزید ہدایت کی کہ وہ لوگوں کے درپیش مسائل کے تدراک کے لئے توجہ اور تندہی کے ساتھ کوشش کریں۔ نگران وزیراعلیٰ سندھ نے تمام سیکریٹریز اور محکموں کے سربراہوں کو ہدایت کی کہ وہ زیر التواءفائلوں ، سمریوں اور ان کے دفتر میں پڑے کیسز کو ایک ہفتہ کے اندر اندر نمٹائیں۔
جسٹس ( ر) زاہد قربان علوی نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاﺅس میں زیر التواءتمام سمریاں اور کیسز آئندہ چند روز کے اندر نمٹا دی جائین گی۔ حکومتی ترجیحات کا اعادہ کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی کے دیگر اہم مسائل جن میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی سرفہرست ہے جس کے لئے وہ جلد کے ای ایس سی ، حیسکو اور واپڈا کے افسران کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے۔
نگران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور یہاں پر صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ دینے کے لئے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ بہت ضروری ہے ۔ اس موقعہ پر اجلاس میں شریک سیکریٹریوں نے اپنے اپنے محکموں کو درپیش مسائل کے حوالے سے روشنی ڈالی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حیسکو /سیسکو کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف 60بلین روپے کی اوور بلنگ ہے جبکہ ایک اعلیٰ سطحی فورم پر جس میں دو دوفاقی وزراءاور زیراعلیٰ سندھ شامل تھے یہ طے پایا تھا کہ 2.5بلین روپے سندھ حکومت ادا کریگی جبکہ واپڈا کی طرف سے دعویٰ کردہ رقوم کو بقایاجات سے حدف کیا جائیگا ۔ اجلاس میں دیگر امور بھی زیر غور آئے۔
.......
/169